فیفا ورلڈ کپ شائقین کے لیے بڑی خوشخبری: امریکا نے ویزا بانڈز کی شرط ختم کر دی

امریکا نے 2026 فیفا ورلڈکپ کے ٹکٹ رکھنے والے شائقین کیلئے بڑی سہولت کا اعلان کرتے ہوئے بھاری ویزا بانڈز ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس اقدام کے بعد ورلڈکپ دیکھنے آنے والے ہزاروں غیر ملکی شائقین کو اضافی مالی بوجھ سے نجات مل جائے گی، جبکہ اس سے قبل 5 ہزار سے 15 ہزار ڈالر تک کے بانڈز نے شدید تشویش پیدا کردی تھی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ فیفا ورلڈکپ کے ٹکٹ ہولڈرز پر عائد کیے گئے مہنگے ویزا بانڈز سے استثنیٰ دیا جارہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے قونصلر امور مورا نامدار نے بتایا کہ وہ شائقین جنہوں نے 15 اپریل 2026 تک ورلڈکپ ٹکٹ خریدے اور فیفا پاس پروگرام میں رجسٹریشن کرائی، انہیں ویزا بانڈ ادا نہیں کرنا پڑے گا۔

یہ بانڈ پالیسی گزشتہ سال اگست میں متعارف کرائی گئی تھی، جس کے تحت 50 ممالک کے شہریوں کو عارضی امریکی ویزا حاصل کرنے کیلئے 5 ہزار سے 15 ہزار ڈالر تک بطور ضمانت جمع کرانا ضروری تھا۔ یہ رقم امریکا سے واپسی کے بعد واپس کردی جاتی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق اس سے قبل کھلاڑیوں، کوچز اور سپورٹ اسٹاف کو بھی اس شرط سے استثنیٰ دیا جاچکا ہے، بشرطیکہ وہ امریکا میں داخلے کی دیگر شرائط پوری کرتے ہوں۔

مورا نامدار کا کہنا تھا کہ امریکا قومی سلامتی کے تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے ورلڈکپ کے دوران قانونی سفری سہولتیں فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ٹکٹ ہولڈرز کو معمول کے ویزا عمل اور سیکیورٹی جانچ سے گزرنا ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 2026 فیفا ورلڈکپ کے دوران امریکا میں تقریباً ایک کروڑ غیر ملکی شائقین کی آمد متوقع ہے۔ میچز کا آغاز 11 جون سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے مختلف شہروں میں ہوگا۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن اور ڈی پورٹیشن پالیسیاں فیفا صدر جیانی انفانٹینو کے ’’تاریخ کے سب سے زیادہ شمولیتی ورلڈکپ‘‘ کے دعوے سے متصادم ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اب بھی کم از کم 39 ممالک امریکی سفری پابندیوں کی زد میں ہیں، جن میں ایران اور ہیٹی جیسے ورلڈکپ میں شریک ممالک شامل ہیں، جبکہ آئیوری کوسٹ اور سینیگال پر جزوی پابندیاں برقرار ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ورلڈکپ کے دوران امریکی امیگریشن ادارے آئیس کے کردار پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اپریل میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور امریکن سول لبرٹیز یونین سمیت متعدد تنظیموں نے امریکا کیلئے ’’ٹریول ایڈوائزری‘‘ جاری کرتے ہوئے انسانی حقوق کی صورتحال اور امیگریشن قوانین پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’بائیں بازو کے گروپوں کی خوف پھیلانے کی مہم‘‘ قرار دیا تھا۔

Related posts